ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﻮ

ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ

اِک تمہارے خیال میں ہم نے
جانے کتنے خیال چھوڑے ہیں..

میں نے اسکا خط رکھ دیا پڑھا ہی نہیں
بھول جانے کا__ مشورہ ہی لکھا ہوگا

مدت ہوئی تجھے زندگی سے رخصت کیئے ہوئے۔۔

لیکن آج بھی ہر آہٹ تیرے آنے کی دستک لگتی ہے ساگر

کسی اور کو سوچنے کی گنجائش نہیں باقی

بس تم پر ہی ختم ہے یہ داستان میری